دوآبہ | افضل احسن رندھاوا | مشتاق عادل Osho | Guru Rajneesh
دنیا کی تاریخ میں ہر چند سو سال بعد کمیتی اور کیفیتی طور پر ایسی حیرت انگیز تبدیلیاں ظہور پذیر ہوتی ہیں کہ ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ گزشتہ تاریخ ، معاشرہ ، تہذیب ، فکر اور فن سب بدل گئے ہیں ۔ اور حیات و کائنات کے بارے میں ہمارا رویہ ہمارے معاشی، سماجی اور سیاسی نظام، ہمارا ادب اور فن ، ہمارا ور لڈویو ، ہمارا ظاہر و باطن ، ہماری بنیادی قدریں ۔ غرضیکہ پرانی تعمیریں منہدم ہو جاتی ہیں اور فکر و اظہار کے نئے پیکر اور اُسلوب جنم لیتے ہیں۔ جسے تاریخ کا تسلسل کہا جاتا ہے اس میں مسلسل عدم تسلسل کی صورتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ ہر تبدیلی نئی امید، نئے خدشات اور نئے امکانات کو جنم دیتی ہے ۔ جدیدیت سے مابعد جدیدیت کی تبدیلی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ کیا نئی صدی کے دہانے پر ہم ایک بار پھر ایسی ہی تبدیلیوں کے روبرو ہو رہے ہیں۔ سائنس اور ٹکنا لوجی نےانسان اور کائنات کے بارے میں ہمارے تصورات کو ہی نہیں بدلا بلکہ انسان اور کائنات کو ہی بدل دیا ہے ۔
صفحات 127
کبھی آپ نے سوچا یہ "لنڈے کے فلاسفر" جنکے اپنے ذاتی مسائل یہ نہیں ھیں کیونکہ وہ حقیقت جانتے ھیں پھر بھی وہ ان موضوعات پر بات اس لئے کرتے ھیں کہ عام لوگ اس کھیل کو سمجھ سکیں عام لوگوں کی زندگیاں آسان ھوں بجائے ستائش حاصل کرنے کے یہ طبقہ ان لوگوں سے لعن طعن وصول کرتا ھے جنکی بہتری کے لئے وہ لکھتے ھیں تب وہ لوگ کیسا محسوس کرتے ھوں گے لیکن شعور کا ہی امتیاز ھے کہ یہ ہیمشہ سچ کے لئے باآواز رھتا ھے
یہ کتاب مجھے ایسے کئی خواب دیکھنے والوں کی زندگی سے معمور تعبیرات عطا کرتی ہے۔ یہاں زمین بیچنے کے لئے نہیں ہے بلکہ آسمان ' بارش ' ہوا ' پہاڑ' ندی ' صحرا ' جنگل کےساتھ اور اس میں بسنے والے ہر ذی روح کے ساتھ اور اس اور بسنے والے زمین زادوں کے ساتھ سانس لیتی ہے۔ ان تراجم میں نذیر لغاری کی اپنی روح اور اپنی زمین کی خوشبو بھی ہے۔۔۔
کسی بھی افسانے کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے قارئین کے دل و دماغ پر اثر انداز ہو کر اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ ڈاکٹر شگفتہ خورشید کے افسانے بالعموم دیہی زندگی سادہ اور فطری حسن کے پیچھے چھپے ہوئے دکھوں سے عبارت ہیں۔ یہ ان خانہ بدوشوں کی کہانیاں ہیں جو محنت سے ذلت کماتے ہیں۔ یہ ان دوشیزاؤں کی کہانیاں ہیں جو اپنے خوابوں کے تعاقب میں اپنی نسائیت اور عزت گنوا بیٹھتی ہیں۔ یہ بابل کے آنگن میں کھلنے والی ان کلیوں کی کتھا ہے جن کی قسمت میں آرزوؤں کی سیج نہیں لکھی ہوئی۔ یہ ان محروم اور شکستہ نصیبوں کی کہانی ہے جو صدیوں سے نسل در نسل نچلے طبقے کو منتقل ہو رہی ہے۔ ان کی زندگیوں کی سیاہ رات اتنی طویل ہے کہ بہت سی آنکھوں نے صبح کا انتظار چھوڑ دیا ہے۔ امید کا ایک ننھا سا چراغ ہے جسے ڈاکٹر شگفتہ خورشید نے تند ہواؤں کے مقابل رکھا ہوا ہے۔ دعا ہے کہ یہ چراغ ، نئی سحر کی نوید بن کر معاصر اردو افسانے میں ڈاکٹر شگفتہ خورشید کی اہمیت اور انفردیت کا معتبر حوالہ بن جائے۔
مصنف| اوشو |
صفحات: 272، ساتھ کلر تصویر
مصنفہ نے ہیرا منڈی کو مرکز مان کر ایسا دائرہ کھینچا گیا ہے جس میں سماجی ، نفسیاتی اور سیاسی حقائق سمٹ آئے ہیں۔ ناول میں ہیرا منڈی کے رسم و رواج، وہاں کے مخصوص تہوار اور ان کا مذہبی رجحان بھی دکھایا گیا ہے۔ شاہ نواز کا لڑکپن اور برصغیر کی تقسیم، قتل و غارت اور ہنگامے، نئے قوانین کا اطلاق اور سماج پر اس کے اثرات، پسماندگی اور مسلسل جدوجہد، سیاسی اتھل پتھل اور ردِ عمل، یہ سارے معاملات ایک لڑی میں نہایت چابک دستی سے پروئے گئے ہیں۔
ھینی بال ( ترجمہ:سید ھاشمی فرید آبادی)
گیبریل گارشیا مارکیز کا نام عالمی ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے نیا ہرگز نہیں۔ آپ کولمبیا سے تعلق رکھنے والے مصنف ہیں جنہیں اپنی تحاریر کی بنا پہ ادب کا نوبل انعام بھی مل چکا ہے۔ آپ کے قلم سے کئی ناول اور مختصر کہانیاں نکل چکی ہیں جنہوں نے بے انتہا شہرت پائی۔ ان کتابوں میں One Hundred Years of Solitude، No One Writes to the Colonel، اور Love in the Time of Cholera وغیرہ شامل ہیں۔ آنے والے دنوں میں ان شاء اللہ یہ کتب بھی کتابستان کا موضوع بنیں گی۔
ایک جگہ ایک کردار دوسرے سے کہتا ہے
a useful analysis of a range of conflicts that continue to punctuate the South Asian political landscape